LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران میں براہ راست تصادم، ٹینکرز پر حملے اور اردن میں جوابی کارروائی

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب امریکی افواج نے پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے جواب میں تہران نے اردن میں واقع اہداف کو جوابی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت ایک انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب امریکی افواج نے مبینہ طور پر پانچ ایرانی آئل ٹینکرز پر فضائی حملے کر کے انہیں نشانہ بنایا۔ اس واقعے نے پہلے سے سلگتے ہوئے خطے میں تناؤ کو عروج پر پہنچا دیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور سمندری سلامتی کے حوالے سے شدید خدشاتم جنم لے رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی کے فوری بعد تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور ایرانی اتحادیوں یا فورسز نے اردن میں موجود مخصوص اہداف کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ براہ راست محاذ آرائی خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات اور بھی زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے کے امن کو بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے ذرائع کو بھی براہ راست خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور اتحادی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ دفاعی تجزیہ کار آنے والے دنوں میں مزید کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔