LIVE
Loading Breaking News...

بینکنگ سیکٹر کا حکومتی قرضوں اور منافع پر انحصار

News Image
نجی شعبے کو قرض دینے کے محدود مواقع کی وجہ سے ملک کا بینکنگ سیکٹر موجودہ مالی سال میں بھی منافع کے لیے حکومتی قرضوں پر انحصار کرتا رہے گا۔ مالی سال میں وفاقی حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے کا حجم بڑھ کر پانچ اعشاریہ نو ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔
کراچی کے مالیاتی ذرائع کے مطابق ملک کا بینکنگ سیکٹر موجودہ مالی سال کے دوران بھی اپنے منافع کے لیے حکومتی قرضوں پر انحصار جاری رکھے گا۔ نجی شعبے کے لیے قرض کے محدود مواقع اب بھی برقرار ہیں جس کی وجہ سے بینک ایکویٹی مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی منافع بخش سیکٹرز میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری نہ آنے کی وجہ سے یہی رجحان اس سال بھی جاری رہنے کی توقع ہے جیسا کہ پچھلے مالی سال کے دوران دیکھا گیا تھا۔ ایک سینئر بینکر نے بتایا کہ نجی شعبے کو قرض فراہم کرنے کے اختیارات پہلے ہی محدود ہیں اور اس سال بھی صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ پچھلے چند برسوں کے دوران محصولات میں اضافے کے باوجود حکومت کی جانب سے قرض لینے کا عمل تیزی سے جاری رہا جس کے نتیجے میں آمدنی کا تقریباً پچاس فیصد حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود بینکوں سے وفاقی حکومت کی ادھار لی گئی رقم بڑھ کر پانچ اعشاریہ نو ٹریلین روپے ہو گئی جبکہ اس سے پچھلے سال یہ تخمینہ پانچ اعشاریہ چار ٹریلین روپے تھا۔ بینکرز کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال میں بھی یہی قرض لینے کا رجحان جاری رہے گا جبکہ نجی شعبے کو پچھلے سال کے مقابلے میں بھی کم کریڈٹ ملنے کا اندیشہ ہے۔ مالیاتی ماہرین نے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نجی شعبے کی کمزور ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ جون میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو کم ہو کر پینتیس اعشاریہ دو فیصد رہ گئی جو اس سے پچھلے سال اڑتیس اعشاریہ ایک فیصد تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرح خطے میں سب سے کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سود کی ادائیگیوں پر بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی جانب سے بارہا زور دیے جانے کے باوجود کہ بینک نجی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضے فراہم کریں تاکہ معاشی شرح نمو کو چار فیصد سے اوپر اٹھایا جا سکے، نجی شعبے کو صرف ایک اعشاریہ چار ٹریلین روپے کے قریب ہی رقم مل سکی۔