LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کے قریب، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا اثر

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں ایک بار پھر زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں جانب سے حالیہ جوابی کارروائیوں کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس نے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری اس تنازعے کے طول پکڑنے کے خطرات منڈی پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اس تناظر میں عالمی مالیاتی منڈیوں اور اسٹاک ایکسچینجز پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وال اسٹریٹ پر ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور امریکہ و کندا کے درمیان تجارتی تنازعہ معاشی بحالی کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے اور تیل کی سپلائی کے راستے متاثر ہوتے ہیں، تو قیمتیں سو ڈالر کی حد کو عبور کر سکتی ہیں جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ بحران محض عارضی نہیں ہے بلکہ اس کے عالمی معیشت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومتیں اور توانائی کے ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور تیل کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دریں اثنا، کاروباری حلقوں اور عام صارفین دونوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے کیونکہ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی اوپر جانے کا خدشہ ہے۔