LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: آئل ٹینکرز پر حملے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف لگاتار حملے کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب امریکہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری جانب تہران نے اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس تازہ ترین محاذ آرائی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کیے جانے والے جوابی حملوں نے خطے کے امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس عسکری کشیدگی کے فوری اور براہ راست اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تازہ ترین جھڑپوں اور سپلائی چین میں خلل پڑنے کے خدشات کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین معاشیات اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی سطح پر جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں مزید ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب پہلے ہی سے خطے میں مختلف محاذوں پر جنگی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے دفاع اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں، جب کہ ایرانی قیادت امریکہ کی پالیسیوں کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی بڑی علاقائی یا عالمی جنگ کو روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق انتہائی کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔