LIVE
Loading Breaking News...

کلستر بم حملے 2025: ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی

News Image
ایک نئی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران کلستر بموں کے حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر 1063 افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے۔ یہ تاریخ کے سب سے بلند سالانہ جانی نقصان میں سے ایک ہے۔
ایک تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں کلستر بموں کے حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد یا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا شدید زخمی ہوئے۔ متاثرین کی یہ مجموعی تعداد 1063 ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ حالیہ برسوں کے دوران اس قسم کے ممنوعه ہتھیاروں سے ہونے والے سالانہ جانی نقصانات میں بلند ترین سطح میں سے ایک ہے۔ اس تشویشناک صورتحال نے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید اور پرانے تنازعات کے دوران کلستر بموں کا بے دریغ استعمال عام شہریوں، بالخصوص بچوں اور خواتین کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ہتھیار زمین پر گرنے کے بعد ایک وسیع رقبے پر پھیل جاتے ہیں اور ان کے چھوٹے بم فوری طور پر نہیں پھٹتے بلکہ طویل عرصے تک زمین میں چھپے رہ کر بارودی سرنگوں کی طرح انسانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ جنگی علاقوں میں سویلین آبادی کی حفاظت اور اس قسم کے تباہ کن ہتھیاروں پر پابندی کے نفاذ کے حوالے سے عالمی سطح پر کیے جانے والے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے عالمی برادری اور بااثر ممالک سے فوری طور پر اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ کلستر بموں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور میدانِ جنگ میں ان کے استعمال کے خلاف سخت ترین قوانین وضع کریں۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں بکھرے ہوئے ناکارہ بموں کو صاف کرنے کے لیے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔