Education
امریکہ میں تعلیمی معیار میں گراوٹ، ریڈنگ اسکورز پچیس سال کی کم ترین سطح پر
عالمی سطح پر کیے گئے ایک نئے تعلیمی جائزے کے مطابق امریکی طلبا کی کارکردگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اسکول چوائس کی پالیسی کو فروغ دے رہی ہے۔
عالمی سطح پر کیے گئے ایک تازہ ترین تعلیمی جائزے نے امریکہ کے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سالہ امریکی طلبا کی پڑھنے کی صلاحیت یعنی ریڈنگ اسکورز گزشتہ پچیس سال کے دوران اپنی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ اس نئی رپورٹ نے ملک بھر میں جاری تعلیمی بحث کو مزید گرما دیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب حکومتی سطح پر تعلیمی نظام کی اصلاحات کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
حاصل کردہ رپورٹس کے مطابق امریکی طلبا کے ان اسکورز میں سال 2022 کے مقابلے میں چودہ پوائنٹس کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تنزلی ماہرین تعلیم کے لیے سخت تشویش کا باعث بنی ہے کیونکہ پڑھنے کی بنیادی صلاحیت کسی بھی طالب علم کی مستقبل کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس گراوٹ کے پیچھے کووڈ وبائی امراض کے تعلیمی اثرات اور ڈیجیٹل آلات کا بڑھتا ہوا بے قاعدہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ موجودہ سیاسی تناظر میں، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ملک بھر میں اسکول چوائس یعنی والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بہترین اسکول منتخب کرنے کی آزادی کی پالیسی پر زور دیا جا رہا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اسکول چوائس سے تعلیمی اداروں میں مقابلہ بازی بڑھے گی اور معیار بہتر ہوگا، جبکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس سے سرکاری اسکولوں کے وسائل مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں امریکی وزارتِ تعلیم اور مختلف ریاستوں کے تعلیمی بورڈز پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اسکولوں میں نصاب کو بہتر بنایا جائے، اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی جائے اور طلبا کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر جامع حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ امریکہ کے تعلیمی وقار کو بحال کیا جا سکے۔