World
اٹلی کا اسپین کے ساتھ شینگن معاہدہ معطل، امیگریشن بحران شدت اختیار کر گیا
اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ غیر قانونی تارکین وطن کا سیلاب بتائی گئی ہے۔ اس اقدام کو یورپی یونین کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کو ناگزیر اور انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ہمارے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور یورپی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کے علاقے سیوتا میں تارکین وطن کی بڑی آمد اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ یورپی یونین کی سرحدوں کا انتظام تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ یورپی یونین کے اندر غیر کنٹرول شدہ تارکین وطن کے داخلے کو روکا جا سکے، کیونکہ اس کے نتیجے میں لاحق خطرات اور دہشت گردی کے خدشات کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تارکین وطن کے معاملے پر سیاسی ہلچل میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اسپین کے سیوتا کے مقام پر پیش آنے والے اس بحران کو دنیا بھر کے دائیں بازو کے رہنماؤں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں بھی اس صورتحال پر تبصرے کیے گئے جہاں قدامت پسند حلقوں اور سیاسی شخصیات نے اس بحران کو امیگریشن کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک میں بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سرحدوں کی سخت نگرانی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معطلی سے یورپی ممالک کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کے نظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں سرحدی کنٹرول کے حوالے سے نئی پالیسیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ یورپی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک موثر حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ خطے کی سلامتی کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے اور غیر قانونی نقل مکانی کے رجحان کو روکا جا سکے۔