World
امریکہ ایران کشیدگی اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر سو ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے قریب ہو گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تنازع اب ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین محاذ آرائی میں اضافے کے بعد بین الاقوامی سطح پر توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق کویت اور بحرین کے قریب سمندری حدود میں تیل بردار بحری جہازوں کو مبینہ طور پر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے دنیا بھر کے انرجی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے کویت اور بحرین میں موجود تیل بردار جہازوں کے عملے کو فوری طور پر جہاز چھوڑنے کی سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مبینہ حملے کے بعد خطے میں موجود تمام ایسی جہاز رانی جو ان کے مخالفین سے منسلک سمجھی جائے گی، کو جائز ہدف بنایا جائے گا۔ اس پیشرفت نے عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو شدید دھکا لگا ہے اور قیمتیں تیزی سے سو ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد تک پہنچتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل میں تعطل کی صورت میں دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور سفارتی حلقے اس تشویشناک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری مذاکرات کی اپیل کی جا رہی ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ عسکری کشیدگی میں کمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے اور خلیجی سمندروں میں تناؤ بدستور برقرار ہے، جس سے عامتہ الناس اور معاشی ماہرین دونوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔