World
امریکہ اور ایران میں کشیدگی، اردن میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملہ
امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کے ٹینکرز تباہ کیے جانے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغ دیے اور آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کشیدگی سے تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغ دیے اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے پانچ ایرانی تیل کے ٹینکرز کو تباہ کیے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس تازہ ترین فوجی انہدام نے خطے میں ایک ماہ سے جاری نسبتاً سکون کو ختم کر کے رکھ دیا ہے، جس سے عسکری، سمندری اور توانائی کے اثاثے براہِ راست زد میں آ گئے ہیں اور تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس حالیہ ایرانی جوابی حملے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران بار بار امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہر بار ایسا کرنے پر اسے اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے علاقے الازرق کے قریب امریکی فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ ایران کا دعویٰ تھا کہ ان کے میزائلوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم اردن کے عسکری حکام نے تصدیق کی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے بیس میں سے اٹھارہ میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا جبکہ دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کے ممنوعہ اور خطرناک علاقے سے گزرنے والے دس بحری جہازوں پر بھی حملے کیے، جن میں دو امریکی اور آٹھ تیل کے ٹینکرز شامل تھے۔ اس بحران کے دوران یمن کے حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں تیل کی تنصیبات اور ایک فضائی اڈے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور تنصیبات میں آگ لگ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں یہ وسیع تر جنگ اب امریکہ اور ایران کے درمیان قوت کا امتحان بن چکی ہے، جہاں دونوں فریق اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایک دوسرے کو جھکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔