LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے بلند پہاڑوں سے لاشوں کی بازیابی اور کوہ پیمائی کے خطرات

News Image
پاکستان کے بلند و بالا پہاڑوں میں کوہ پیمائی کے فروغ کے ساتھ ساتھ حادثات میں اضافے کے بعد لاشوں کی واپسی کا کٹھن عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ سات ہزار میٹر سے زائد بلندی سے لاشیں نکالنے کا یہ خطرناک فریضہ چند بہادر پاکستانی اور بین الاقوامی کوہ پیما مل کر انجام دیتے ہیں۔
پاکستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر ایڈونچر ٹورزم میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکردو ایئرپورٹ کی بہتری، سڑکوں کے بہتر نیٹ ورک اور سوشل میڈیا کی تگ و دو نے پاکستان کی سیاحت کو ایک نئی جہت بخشی ہے، جہاں اب ہر سال سیکڑوں کوہ پیما دنیا کی مشکل ترین چوٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس تیزی سے پھیلتی ہوئی کوہ پیمائی کے ساتھ کچھ المناک حقائق بھی جڑے ہیں، جن میں ہر سیزن میں پیش آنے والے جانی نقصانات سرفہرست ہیں۔ جب کوئی کوہ پیما دنیا کی چھت پر کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، تو زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے زمینی اور فضائی ریسکیو آپریشنز شروع کیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ کوئی جان کی بازی ہار جائے، تو اس کی لاش کو نیچے اتارنا ایک انتہائی مشکل اور جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے، جسے انجام دینے کی جرات بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اس کٹھن اور خطرناک مشن کے لیے پاکستان کے چند مقامی کوہ پیما اور پورٹرز خاموشی سے دنیا کے اس انتہائی خطرناک پیشے کو اپنا چکے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ بلندیوں پر ریسکیو اور لاشوں کی بازیابی کے لیے کوئی باقاعدہ نجی سروس موجود نہیں ہے، اس لیے پاک فوج کی ایوی ایشن یونٹ کے علاوہ یہ مشنز سوگوار خاندانوں کے لیے آخری امید بن جاتے ہیں۔ سنہ دو ہزار چھ میں آسٹریلیائی کوہ پیما مارکس کرونٹھیلر براڈ پیک کی چوٹی سر کرنے کے بعد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن کی لاش وہیں رہ گئی تھی۔ ان کے بھائی جارج کرونٹھیلر نے اس نظریے کو بدلنے کا تہیہ کیا کہ اتنی بلندی سے لاش واپس نہیں لائی جا سکتی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سنہ دو ہزار سات میں چھ پاکستانی اور دو آسٹریلیائی کوہ پیماؤں کی مدد سے ایک تاریخی مہم جوئی کی اور کامیابی کے ساتھ مارکس کی لاش کو نیچے لائے۔ اس مہم نے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی روایتی سوچ کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد سے سکردو کے مقامی ٹور آپریٹرز اور ماہر کوہ پیماؤں نے اس میدان میں باقاعدہ تربیت حاصل کرنا شروع کی، تاکہ غم زدہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کے جسد خاکی میسر آ سکیں۔ سات ہزار میٹر سے زائد بلندی پر جہاں آکسیجن کی کمی اور انتہائی سرد موسم قدم قدم پر موت کا پیغام لاتا ہے، یہ پاکستانی پورٹرز اپنی جان کی پروا کیے بغیر انسانیت اور پروفیشنلزم کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔