Pakistan
سندھ اسمبلی کا اجلاس، وفاق سے پیٹرولیم لیوی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ
سندھ اسمبلی نے جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس فوری طور پر ختم کرے۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے سندھودیش کے معاملے پر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران منگل کو ایک اہم پیش رفت میں ایوان نے متفقہ طور پر اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کو منظور کر لیا جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہ قرارداد جماعت اسلامی کے واحد قانون ساز محمد فاروق کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جن کی جماعت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔ قرارداد میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسٹمز ڈیوٹی سمیت پیٹرول کی اصل قیمت کم ہے لیکن اس پر بھاری لیوی اور دیگر ڈیوٹیز عوام پر شدید معاشی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ قرارداد پر بحث کے دوران صوبائی وزیرِ قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ براہِ راست وفاقی حکومت سے متعلق ہے اور صوبائی حکومت اس ٹیکس کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ تاہم، تمام تر مباحثے کے بعد اسپیکر نے قرارداد کو رائے شماری کے لیے پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے وفاق سے اپیل کی کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے لیوی ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ دوسری جانب اجلاس کے دوران سیاسی کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی جہاں ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے سندھودیش کے مبینہ نعروں اور معاملے پر شدید احتجاج کیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی شدید متاثر ہوئی اور وقفہ سوالات بھی معمول کے مطابق نہ چل سکا۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے اسپیکر اور سیکریٹریٹ پر جانبدارانہ رویے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ ممبرز ڈے کے روز اپوزیشن کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ اس ہنگامے کے دوران ایوان میں قانون سازی کا عمل بھی جاری رہا جہاں ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے مسیحی برادری کے لیے 'کرسچن فیملی لاز بل' ایوان میں پیش کیا۔ اس بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اس پر مزید قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔