LIVE
Loading Breaking News...

مذهبی آزادی قانون اور اخلاقیات سے مشروط، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

News Image
وفاقی آئینی عدالت نے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بنیادی حقوق اور مذهبی آزادی مطلق نہیں ہیں بلکہ قانون اور عوامی مفاد سے مشروط ہیں۔ عدالت نے احمدیہ برادری کی تیئیس جلدوں پر مشتمل کتابوں پر پابندی اور ضبطی کے خلاف دائر تمام درخواستیں خارج کر دیں۔
اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق اور مذهبی آزادی مطلق نہیں ہیں بلکہ یہ قانون، پبلک پالیسی اور اخلاقیات سے مشروط ہیں۔ عدالت نے یہ آبزرویشن احمدیہ برادری کی تیئیس جلدوں پر مشتمل اشاعت 'روحانی خزائن' کی ضبطی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلوں کی سماعت کے دوران دی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کے فیصلے کو درست قرار دیا اور درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کردہ تمام اپیلوں کو مسترد کر دیا۔ درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ اور اس کے ملتان بنچ کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا جنہوں نے اس سے قبل ان کی درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کا تحریری متن تیرہ صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا۔ فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل بیس شہریوں کو مذهبی آزادی کی ضمانت ضرور دیتا ہے لیکن یہ آزادی قانون، امن عامہ اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے قابل استعمال ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کا یہ مؤقف سرے سے مسترد کر دیا کہ ان کے مذهبی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ فیصلے کے مطابق، درخواست گزاروں کے وکلاء عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ متعلقہ مواد میں ایسا کیا تھا اور اس کی پابندی سے کس طرح حقوق متاثر ہوئے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس قسم کے معاملات میں محض عمومی گفتگو یا فرضی دلائل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی جب تک کہ ٹھوس ریکارڈ اور شواہد پیش نہ کیے جائیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پنجاب رولز آف بزنس کے تحت صوبائی حکومت کو مجاز اتھارٹی حاصل ہے اور ہوم ڈیپارٹمنٹ نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کارروائی کی۔ ریکارڈ کے مطابق، ایک سرکردہ علما بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سفارش کی تھی کہ مذکورہ جلدوں میں موجود مواد مسلم معاشرے میں منا نفرت کا باعث بن سکتا ہے، جس کی بنیاد پر حکومت نے اسے ضبط کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے مطابق یہ کارروائی ضابطہ فوجداری اور متعلقہ آرڈیننس کے تحت دی گئی قانونی طاقت کے دائرے میں کی گئی ہے لہذا اسے کسی بھی طرح غیر قانونی یا اختیارات سے تجاوز نہیں کہا جا सकता۔ عدالت نے اپنے فیصلے کے اختتام پر تمام متعلقہ درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور تمام زیر التوا درخواست نمٹا دیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ریاست اور عدالتوں کی طرف سے مذهبی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے اصول کو مزید تقویت ملی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی مفاد اور عوامی نظم و ضبط کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کے خلاف آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کارروائی کی جا سکتی ہے۔