LIVE
Loading Breaking News...

روس کے نئے جیٹ ڈرونز یوکرین کے لیے خطرہ، چینی انجنوں کا استعمال

News Image
روس نے نئے جیٹ سے چلنے والے ڈرونز تیار کر لیے ہیں جو چینی انجنوں سے لیس ہیں اور یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو شدید مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔ یہ جدید ڈرونز روایتی شاہد یا گران ڈرونز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار اور بلند پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں اپنی فضائی صلاحیتوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے نئے جیٹ سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو اب یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ان نئے ڈرونز میں چینی ساختہ انجنوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی اور رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پہلے روسی فوج عام طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز یا ان کے مقامی ورژن گران پر انحصار کرتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ حالیہ رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'گران-فور سیکر' جیسے نئے ہوائی فریموں کو مکمل طور پر دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے کیونکہ پرانے فریم زیادہ رفتار اور جدید دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر تھے۔ جیٹ انجن کے نفاذ کے بعد اب یہ ڈرونز بہت زیادہ بلندی اور تیز رفتاری سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے یوکرین کے روایتی فضائی دفاعی نظام اور کم فاصلے کے ہتھیاروں کے لیے ان کو فضا میں ہی ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز بعض اوقات ایسی بلندیوں پر پرواز کرتے ہیں جہاں تک عام ایئر ڈیفنس سسٹمز کی رسائی نہیں ہوتی۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) اور دیگر دفاعی اداروں کی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ روس اپنے یکطرفہ حملے کرنے والے ڈرونز کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ سادہ اور سست رفتار پروپیلر ڈرونز سے لے کر اب جدید جیٹ طیارہ نما ڈرونز تک کا یہ سفر روسی دفاعی صنعت کی تیزی سے بدلتی ہوئی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی اس نئی پیشرفت کا توڑ نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ فضائی جنگ کے اس نئے دور میں جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کی جنگ جاری ہے، وہیں دوسری طرف دونوں فریقین ایک دوسرے کے دفاعی نقائص کو تلاش کرنے کے لیے مسلسل نئے اور طاقتور ہتھیار میدان میں اتار رہے ہیں۔