World
برطانیہ کا اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا دفاع اور چیف ربی کی تنقید پر جواب
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ وزیر نے برطانوی چیف ربی کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ حالات مزید خراب ہونے سے پہلے آواز اٹھانا ضروری تھا۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب ایک اہم برطانوی وزیر نے مغربی کنارے میں قائم کی جانے والی متنازع اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد کردہ نئی پابندیوں کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے چیف ربی کی جانب سے اس اقدام پر کی جانے والی شدید تنقید کا دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ برطانوی حکومت کو یہ قدم اس لیے اٹھانا پڑا تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا تھا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھل کر بات کی جائے۔ دوسری جانب، برطانوی حکومت پہلے ہی مغربی کنارے میں اسرائیلی شدت پسندوں کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں نسلی تطہییر کے مترادف قرار دے چکی ہے۔ اس سے قبل گیارہ یورپی ممالک اور کینیڈا بھی مقبوضہ علاقوں میں پیدا ہونے والی مصنوعات اور بستیوں کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادھر، رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر مشرقی بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ تیس دن کے اندر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ برطانوی سیاستدانوں اور عالمی رہنماؤں کے درمیان یہ ڈیڈ لاک اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مغربی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور بستیوں کی توسیع کے معاملے پر اب برداشت کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔