World
ریاض کی حوثی حملوں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری
یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں اور اہم توانائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ سعودی قیادت نے اس بڑی علاقائی کشیدگی کے بعد بھرپور اور فیصلہ کن جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ریاض: یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں اور اہم توانائی تنصیبات پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حامی حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس حملے کو مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی میں ایک بڑا اور خطرناک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ان حملوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ریاض حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور اقتصادی اثاثوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گی اور حوثی باغیوں کو اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب، یمن کے محاذ پر بھی سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، جس نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی برادری نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم تازہ ترین واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع فی الحال تھمتا نظر نہیں آ رہا۔