Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، ریٹ 100 ڈالر فی بیرل ہو گیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حالیہ فوجی تنازع کے اثرات اب عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی میں خلل کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں جاری تناؤ نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اہم بحری راستوں اور پیداواری تنصیبات کو خطرات لاحق ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ جوابی کارروائیوں نے توانائی کے بحران کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔ ماضی میں یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے کیوں ہیں، لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمتیں اس نفسیاتی حد کے قریب پہنچ چکی ہیں یا اسے عبور کر چکی ہیں۔ تجارتی حلقوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر تنازع طول پکڑتا ہے تو تیل کی سپلائی کا طویل مدتی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر آسکती ہے۔
کاروباری ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع اگر مزید سنگین ہوا تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ دنیا بھر کے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو بڑھانے اور معاشی سست روی کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے سپلائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور منڈی میں استحکام لانے کے لیے ہنگامی تدابیر پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت کو بڑے دھچکے سے بچایا جا سکے۔