World
ظالم شوہر سے طلاق کا مہنگا سودا، برطانوی خاتون کا قانون بدلنے کا مطالبہ
برطانیہ میں ایک خاتون کو اپنے ظالم اور جبر کرنے والے سابق شوہر سے طلاق لینے کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزار پاؤنڈ کی بھاری رقم ادا کرنا پڑ گئی۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاتون نے قانون میں تبدیلی کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ گھریلو جبر کی شکار خواتین کو انصاف کے حصول میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی اینابیلا باؤچر نامی خاتون کو اپنے ظالم اور جبر کرنے والے سابق شوہر سے طلاق حاصل کرنے کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ کی خطیر رقم ادا کرنا پڑی ہے۔ اس ہوشربا مالی نقصان کے بعد خاتون نے حکومت اور قانون ساز اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طلاق کے قوانین میں فوری طور پر تبدیلیاں کی جائیں تاکہ ایسی خواتین جو پہلے ہی گھریلو تشدد اور نفسیاتی جبر کا شکار ہوتی ہیں، انہیں انصاف اور طلاق کے حصول کے لیے مالیاتی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اینابیلا باؤچر کے مطابق، قانونی جنگ کے دوران انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور شوہر کے رویے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں نے مقدمے کو طویل کر دیا۔ طلاق کے اس پورے عمل میں ان کی زندگی کی جمع پੂੰی اور وراثت کا ایک بڑا حصہ وکلاء کی فیس اور عدالت کے اخراجات کی نذر ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ان لوگوں کے لیے زیادہ سازگار ہے جو اپنے ساتھی پر مالی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ متاثرہ فریق کو دوہرے اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔
متاثرہ خاتون نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو خاموشی سے جانے نہیں دیں گی بلکہ معاشرے میں اس سنگین مسئلے کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خاندانی عدالتوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے اور ایسے قوانین متعارف کروائے جائیں جو ظالم اور جابر شریک حیات کو قانونی عمل کو طویل کرنے اور متاثرہ فریق کو مالی طور پر تباہ کرنے سے روک سکیں۔ سماجی حلقوں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔