LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں نایاب اورینگوٹان کے بچوں کی دریافت پر اسمگلنگ کی تحقیقات

News Image
بھارت کی مشرقی ریاست اوڈیشہ میں قدرتی ماحول سے دور انتہائی خطرے سے دوچار اورینگوٹان کے بچے برآمد ہوئے ہیں۔ ان نایاب بندر نما بن مانسوں کی دریافت کے بعد مقامی حکام نے بین الاقوامی جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے زاویے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارت کی مشرقی ریاست اوڈیشہ کے ایک جنگل سے انتہائی نایاب اور خطرے سے دوچار نسل کے اورینگوٹان (Orangutan) کے بچے برآمد ہوئے ہیں، جن کی موجودگی نے ماہرینِ حیاتیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جانور ان کے قدرتی مسکن سے ہزاروں میل دور اور ایک ایسے خطے میں پائے گئے جہاں ان کا پایا جانا عام نہیں۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان معصوم اور انتہائی قیمتی جانوروں کو اس دور دراز علاقے تک کیسے اور کن مقاصد کے لیے لایا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ بچے غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور اسمگلنگ کا شکار ہونے والے نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے محکمے کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان نایاب بن مانسوں کو خفیہ راستوں سے بھارت اسمگل کیا جا رہا تھا یا پھر کسی نجی چڑیا گھر یا غیر قانونی افزائش کے مرکز کے لیے لایا جا رہا تھا۔ اس دریافت کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھنائونے کاروبار میں ملوث اصل سرغنہ تک پہنچا جا سکے۔ مزید برآں، ان معصوم جانوروں کی طبی جانچ پڑتال کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی جسمانی حالت اور صحت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکے۔ برآمد ہونے والے اورینگوٹان کے بچوں کو فی الحال ماہرین کی نگرانی میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت اورینگوٹان ایک انتہائی محفوظ نسل ہے اور ان کی تجارت پر کڑی پابندی عائد ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ایشیا میں جنگلی حیات کی اسمگلنگ کا نیٹ ورک کس حد تک فعال ہے اور اس کے تدارک کے لیے سرحد پار سے تعاون کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں مقامی مخبروں اور بین الاقوامی وائلڈ لائف پروٹیکشن ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس کیس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کارروائی کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔