World
اسرائیلی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کا فرق اور اس کے اثرات
اسرائیل میں روایتی معاشی پالیسیوں کے بجائے فلسطینی ریاست اور مقبوضہ علاقوں کے مؤقف پر سیاسی تقسیم کی جاتی ہے۔ یہاں دائیں اور بائیں بازو کا فرق بنیادی طور پر خطے کے سکیورٹی اور امن عمل سے جڑا ہوا ہے۔
اسرائیل کی سیاست میں بائیں بازو (Left) اور دائیں بازو (Right) کی تقسیم دنیا کے دیگر مغربی جمہوریتوں سے کافی مختلف ہے۔ اکثر ممالک میں یہ تقسیم ٹیکسوں، معیشت، اور سرکاری اخراجات جیسے مالیاتی امور پر مبنی ہوتی ہے، لیکن اسرائیل میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ یہاں سیاسی محور کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ کوئی جماعت یا فرد فلسطینی ریاست کے قیام، عرب اسرائیل تنازع، اور مقبوضہ علاقوں کے حوالے سے کیا مؤقف رکھتا ہے۔ یہ نظریاتی خلیج ملک کی تشکیل کے وقت سے ہی اسرائیلی معاشرے پر اثر انداز رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں مزید گہرائی آتی گئی ہے۔
تاریخی طور پر، اسرائیل کا بائیں بازو سیکولر ازم، امن مذاکرات، دو ریاستی حل (Two-State Solution)، اور فلسطینیوں کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سمجھوتعے کے حق میں رہا ہے۔ ماضی میں لیبر پارٹی جیسی جماعتیں اس تحریک کی قیادت کرتی رہی ہیں، جن کا خیال تھا کہ اسرائیل کی طویل مدتی بقا اور یہودی شناخت کے تحفظ کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور زمین کا تبادلہ ضروری ہے۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں امن عمل کے تعطل اور سکیورٹی خدشات کے باعث بائیں بازو کے اثر و رسوخ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد دائیں بازو کے نظریات کی طرف مائل ہو چکی ہے۔
دوسری طرف، اسرائیل کا دائیں بازو سکیورٹی پر سخت گیر مؤقف، یہودی بستیوں کی توسیع، اور خطے میں عسکری برتری کے قیام پر زور دیتا ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں، جن میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے اتحادی شامل ہیں، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شدید مخالفت کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست اسرائیل کی سلامتی کے لیے ناقابل قبول خطرہ بن سکتی ہے۔ اس سیاسی بیانیے میں مغربی کنارے اور دیگر مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول برقرار رکھنے کو قومی سلامتی کی اولین شرط قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں یہ روایتی خطوط مزید دھندلا گئے ہیں کیونکہ معاشی مسائل، داخلی قانون سازی، اور عدالتی اصلاحات جیسے معاملات بھی سیاسی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود، جب بھی اسرائیل میں انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے یا قومی سلامتی کا بحران پیدا ہوتا ہے، تو اصل فیصلہ کن عنصر یہی پرانا سوال بن جاتا ہے کہ آیا فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے یا طاقت کے ذریعے اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسرائیلی سیاست کا مرکز معیشت نہیں بلکہ سکیورٹی اور خطے کا مستقبل ہے۔