World
نیپال کا ماحولیاتی انصاف اور سیلابی معاوضے کا مطالبہ
نیپال کے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ملک کو دوسرے ممالک کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلابوں کے تناظر میں نیپال نے عالمی برادری سے انصاف اور مالی معاوضے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
نیپال کے سیاست دانوں نے حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بعد بین الاقوامی برادری سے ماحولیاتی انصاف اور مالی معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک دنیا بھر کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے پھیلائی جانے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہا ہے۔ نیپال میں حالیہ طوفانی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید دھچکا لگایا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نیپال کا عالمی کاربن کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود یہ ہمالیائی ریاست موسمیاتی بحران کے سب سے خطرناک اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں نیپال کے اندر موسم کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا، بے وقت مون سون کی بارشیں اور خطرناک سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کرہ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس خطے کے لیے موت کا پروانہ بنتا جا رہا ہے۔ نیپالی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ ممالک جو صنعتی ترقی اور کاربن کے حد سے زیادہ اخراج کے ذمہ دار ہیں، انہیں اب ترقی پذیر اور متاثرہ ممالک کی مالی امداد اور بحالی کے لیے آگے آنا ہوگا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان غریب ممالک کو نقصان اور نقصانات کی مد میں فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اس تباہی سے باہر نکل سکیں۔
عالمی سطح پر موسمیاتی کانفرنسوں میں بھی نیپال نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی ناانصافی کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ نیپال جیسے خطے جو خود اس بحران کو پیدا کرنے میں بالکل ملوث نہیں ہیں، انہیں سب سے پہلے اور شدید ترین نتائج کا سامنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ صنعتی ممالک اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو قبول کریں اور نیپال جیسے کمزور ممالک کو اس ماحولیاتی جنگ سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر معاوضہ اور تکنیکی مدد فراہم کریں۔