World
ایران امریکہ تنازعہ: بحری جہازوں اور ٹینکرز پر حملے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کی طرف سے تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بحری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور خطے میں توانائی کی تنصیبات کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ اس وقت ایک نئے اور خطرناک موڑ میں داخل ہو گیا ہے جب ایران اور امریکہ کے مابین سمندری راستوں پر تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے سب سے بڑے حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران سمندری تجارت کے لیے استعمال ہونے والے اہم راستوں پر حملوں میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ کارروائیاں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی لہر ہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کے مقابلے میں اپنی لڑائی کو مزید تیز کرنے کے واضح اشارے دیے ہیں اور خلیجی خطے میں امریکی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریقین پیچھے ہٹنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے ایک نامعلوم سمت میں امریکی بحری ڈرون یا آبدوز کو پکڑنے کی اطلاعات بھی زیرِ گردش ہیں جس نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور تزویراتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خطے کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس محاذ آرائی کو فوری طور پر سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں اور معاشی استحکام شدید متاثر ہوگا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تہران کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ان کا جواب زیادہ تیز، بھاری اور تکلیف دہ ہوگا۔ اس تناظر میں بین الاقوامی برادری اور علاقائی ممالک کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تاکہ ایک بڑی جنگ کو روکا جا سکے اور بحری تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے جو عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔