Pakistan
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کامیاب کارروائیوں کو سراہا ہے۔
پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئے اور اہم محاذ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس میں بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقے بھی شدت پسندی کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ملک کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نئی لُو کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ملک بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کے دوران کم از کم 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، صوبے کے دیگر حصوں میں کی جانے والی متعدد کارروائیوں میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جن سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
دوسری جانب، ملک کی اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی قیادت نے سکیورٹی فورسز کی اس جرأت مندانہ کارروائیوں کو بھرپور انداز میں سراہا ہے۔ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم نے اپنے الگ الگ پیغامات میں سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاست کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں دیگر ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبے بھی جاری ہیں، جن میں پنجاب میں الیکٹرک بسوں کا اجرا بھی شامل ہے تاکہ عام شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ تاہم، امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت اور عسکری ادارے ملک کے ہر کونے میں بالخصوص بلوچستان کے حساس علاقوں میں امن و امان کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں، تاکہ ملک کو معاشی اور سماجی استحکام کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔