Pakistan
پاکستان کا افغان طلبا کے طبی کالجوں میں داخلوں پر پابندی اور اخراج کا حکم
پاکستان نے تمام طبی اور ڈینٹل کالجوں کو موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے افغان طلبا کو داخلہ نہ دینے اور پہلے سے زیر تعلیم طلبا کو اخراج کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کابل کی جانب سے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ اسلام آباد نے کہا ہے کہ افغان طلبا کی ویزا توسیع کی درخواستوں پر موجودہ قوانین کے تحت غور کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے ایک اہم اور سخت فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت پاکستان بھر کے طبی اور ڈینٹل اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے افغان طلبا کے داخلے فوری طور پر روک دیں اور جو طلبا پہلے سے ان اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں باہر کا راستہ دکھایا جائے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی ہدایات کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس نے تعلیمی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس اقدام کو سکیورٹی اور سرحدی کنٹرول کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، اس حکومتی فیصلے پر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان نے پاکستان کے اس فیصلے کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے افغان طلبا کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا ہے، اور بین الاقوامی برادری سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے درجنوں افغان نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے جو پاکستان میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ دریں اثنا، پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ ملک میں ویزا پالیسی اور دیگر انتظامی امور کو قومی سلامتی اور اسٹریٹجک خود مختاری کے اصولوں کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان طلبا کی ویزا توسیع کی درخواستوں پر کسی تعصب کے بغیر صرف موجودہ ملکی قوانین اور ضابطوں کے تحت ہی غور کیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور سکیورٹی کے معاملات پر جاری کشیدگی کے اثرات اب تعلیمی شعبے پر بھی پڑنا شروع ہو چکے ہیں، جس کے دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔