LIVE
Loading Breaking News...

اے ٹی سی کا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ

News Image
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاجی مقدمے میں خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔ عدالت نے ملزمان کی طرف سے وارنٹ معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاجی کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر سمیت دیگر نامزد ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ یہ مقدمہ گزشتہ برس 26 نومبر کو دارالحکومت میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور دھرنے کے سلسلے میں درج کیا گیا تھا جس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس پر حملے اور ہنگامہ آرائی سمیت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل عدالتی کارروائی سے روگردانی اور پیش نہ ہونے پر عدالت نے سختی کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت کی جانب سے وارنٹ برقرار رکھنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اگلا لائحہ عمل طے کریں۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں اس عدالتی فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں ایک طرف سیاسی مخالفین اس فیصلے کو قانون کی حکمرانی قرار دے رہے ہیں، وہیں تحریک انصاف کی قیادت نے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کیا ہے اور اس کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔