LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل، پارلیمنٹ آنے کا مطالبہ

News Image
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کاروباری فورمز پر گفتگو کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں آئیں۔ انہوں نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے ملک کی علاقائی سالمیت اور پارلیمانی بالادستی پر زور دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے گورننس میں تبدیلی کے مطالبے اور بزنس فورمز پر دیے گئے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے اہم امور پر فیصلے چند کاروباری افراد کے ہاتھ میں نہیں دیے جا سکتے اور ملکی سمت کا فیصلہ کرنے کا اصل مقام صرف اور صرف پارلیمنٹ ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ وزراء کو کاروباری محفلوں میں پالیسیگئی بیانات دینے کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر آکر قانون سازوں سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ جمہوری عمل کو تقویت مل سکے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز یا اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی جماعت پاکستان کی جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ملک کے کسی بھی حصے میں صوبے بنانے یا تقسیم کی تمام سازشوں کا بھرپور سیاسی مقابلہ کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کے تقدس میں پوشیدہ ہے، لہذا تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بعض امور پر تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے حقوق کی جنگ پارلیمنٹ کی فضاؤں میں لڑے گی اور کسی کو بھی غریب عوام کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو مشورہ دیا کہ وہ ملکی معیشت اور سیاست کو مستحکم کرنے کے لیے باہمی مشاورت کا راستہ اختیار کریں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے ہوشیار رہیں۔