World
اردن پر ایرانی حملے: سعودی عرب، قطر اور مصر کا شدید ردعمل
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، بحرین، قطر اور مصر نے اردن پر ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
ریاض: خلیجی اور عرب ممالک کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سعودی عرب، بحرین، قطر اور مصر نے مشترکہ طور پر اردن پر ہونے والے ایرانی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عربم ممالک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جارحیت نہ صرف خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل ایران کی جانب سے اردن میں موجود امریکی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔ ان کارروائیوں کے بعد خطے میں دفاعی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ کوویتی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ملکی حدود کے قریب ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے، جو کہ علاقائی سلامتی کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں ایران کے اس قسم کے بلاجواز حملوں کو خطے کے ممالک کے لیے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ تنازعے کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ سعودی ولی عہد نے بھی اس صورتحال پر مختلف رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں خطے کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اردن اور دیگر علاقائی ممالک پر اس نوعیت کے حملے مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر لے جا سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے بھی تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔