World
برطانیہ کا مؤقف: مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں قابل مذمت
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ اس دوران بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف سخت اقدامات اور پابندیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
برطانیہ کے اعلیٰ رہنما ڈیوڈ میلی بینڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانوی حکومت کے لیے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر کھل کر تنقید کرنا اور انہیں مسترد کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے اس قسم کے اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ زمینوں پر قبضہ کرنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے۔ برطانوی سیاست میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے جہاں لیبر پارٹی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے حکومت کی پالیسی کو سراہا جا رہا ہے اور اسے عالمی سطح پر درست سمت میں ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، کینیڈا سمیت گیارہ یورپی ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اجتماعی اقدام کا مقصد اسرائیل پر دباؤ بڑھਾنا ہے تاکہ وہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ بین الاقوامی برادری کا یہ بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کا غماز ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے منصفانہ اور دوٹوک فیصلوں کی ضرورت ہے، ورنہ خطے کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
اس کشیدہ صورتحال کے ردعمل میں اسرائیل نے بھی سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے برطانیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ تیس دن کے اندر اندر مشرقی بیت المقدس میں اپنا قونصل خانہ بند کر دے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں مزید سرد مہری آ سکتی ہے جبکہ برطانوی حکومت اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔