Business
برینٹ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز، مشرق وسطیٰ بحران کا اثر
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حالیہ حملوں کے باعث تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جولائی کے بعد تیل کی قیمتیں اس اہم نفسیاتی حد سے تجاوز کر گئی ہیں، جس نے دنیا بھر کے مالیاتی اور توانائی کے شعبوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور حوثی تنازعہ سمیت خطے میں جاری کشیدگی نے توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں اور تاجروں میں رسد میں تعطل کا خوف پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی خریداری میں تیزی دیکھی گئی اور قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات دنیا بھر میں مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑیں گے۔ اس اضافے کے فوری اثرات عالمی اسٹاک مارکیٹس پر بھی مرتب ہوئے ہیں جہاں منڈیوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ڈاؤ فیوچرز میں بھی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھنے کے بعد تقریباً 250 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اس طرح کا اچانک اچھال مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے مانیٹری پالیسی کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ حکومتیں اور عالمی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سپلائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا سکیں، تاہم فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔