LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی وزیر خارجہ کا چیف ربی کا دعویٰ مسترد کرنے کا اعلان

News Image
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے چیف ربی کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں سے برطانیہ میں مقیم یہودیوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا مقصد عالمی قوانین کا نفاذ ہے اور اس کا مقامی برادریوں کی سلامتی سے کوئی منفی تعلق نہیں ہے۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ایک اہم بحث نے جنم لیا ہے جب وزیر خارجہ نے چیف ربی کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا کہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کے فیصلے سے برطانیہ میں رہنے والے یہودیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے ہیں اور ان کا مقصد کسی خاص اقلیتی برادری کو خطرے میں ڈالنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت تمام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور مقامی سطح پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، چیف ربی اور کچھ دیگر مذہبی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات سے جڑے فیصلوں کے اثرات براہ راست برطانیہ میں بسنے والی یہودی برادری پر پڑ سکتے ہیں، جس سے ان کے لیے سماجی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ برطانیہ میں قانون کی حکمرانی سب سے مقدم ہے اور حکومت ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے یکساں طور پر کھڑی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں برطانوی پارلیمنٹ اور سیاسی حلقوں میں مزید بحث کا محور بن سکتا ہے، کیونکہ خارجہ پالیسی کے فیصلوں اور اندرونی سلامتی کے امور کو متوازن رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔