World
برطانوی خواتین کا انکشاف: نو عمری میں منشیات کے گروہ کا استحصال
برطانیہ میں چار خواتین نے اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن اور نو عمری میں انہیں ایک خطرناک منشیات فروش گروہ کی جانب سے زیادتی اور استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی چار خواتین نے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بی بی سی کی ایک نئی دستاویزی فلم کے لیے کھل کر اپنے ماضی کی ہولناک کہانی بیان کی ہے۔ اس دستاویزی فلم کا عنوان 'برطانیہ کی بھولی ہوئی لڑکیاں' (Britain's Forgotten Girls) ہے، جس میں ان خواتین نے بتایا کہ کس طرح بچپن اور نو عمری کے دور میں انہیں ایک منظم منشیات فروش گروہ کی طرف سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرموں نے ان کی کمسنی اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں شدید جسمانی و ذہنی استحصال کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خواتین کے مطابق، اس تاریک دور میں انہیں خوف اور دھمکیوں کے سائے میں رکھا گیا تاکہ وہ کسی کے سامنے منہ نہ کھول سکیں۔ مجرموں نے ان کی نادانی کا بھرپور استحصال کیا اور انہیں منشیات کے جال میں پھسا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس دل دہلا دینے والی داستان نے برطانوی معاشرے میں ایک بار پھر بچوں کے تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اس بات کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔بی بی سی کی اس دستاویزی فلم اور خواتین کے اس کھلے انکشاف کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حساس اور گمبھیر معاملات پر کھل کر بات کرنے سے نہ صرف دیگر متاثرین کو حوصلہ ملتا ہے بلکہ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی از سر نو گہرائی سے تحقیقات کی جائیں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بچے کو اس دردناک عذاب سے نہ گزرنا پڑے۔