LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں اے ایف ڈی کی انتخابی کامیابی اور فریدرخ مرز کا سخت ردعمل

News Image
جرمنی کے سیاستدان فریدرخ مرز نے حالیہ انتخابی کامیابی کے بعد انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی پر کڑی تنقید کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان پارلیمنٹ میں ہنگامہ خیز بحث کے دوران تارکین وطن کی پالیسی پر سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔
جرمنی کے سیاسی حلقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی ہے جب ملک کے نمایاں سیاسی رہنما فریدرخ مرز نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'الٹرنیٹو فار جرمنی' (AfD) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ ہنگامہ خیز صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے ایف ڈی نے حالیہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہونے والی ان گرما گرم بحثوں نے جرمن سیاست میں ایک نئے محاذ کو جنم دے دیا ہے۔ بحث کے دوران جرمن چانسلر کی حریف جماعت کے رہنماؤں اور خاص طور پر اے ایف ڈی کی شریک رہنما ایلس ویڈل کے ساتھ براہ راست جھڑپ دیکھنے میں آئی۔ فریدرخ مرز نے ایلس ویڈل کی سخت گیر ہجرت اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے عزائم ملک سے ہنر مند کارکنوں کے لیے اخراج کے مترادف ہیں، جو معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے اسے نسلی تطہیر سے تشبیہ دی جس پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ دوسری جانب، اے ایف ڈی کی رہنما ایلس ویڈل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی جماعت کی پالیسیوں کا پرجوش دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی دراصل عوام کے اس غصے کا اظہار ہے جو موجودہ حکومت کی ناکام معاشی اور سرحدی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جرمنی کے مفادات کا تحفظ صرف ان کی جماعت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور وہ ملک میں مزید سخت اقدامات کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔ یہ حالیہ سیاسی بحران اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جرمنی میں مہاجرین اور تارکین وطن کا مسئلہ اب سب سے بڑا سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی میدان میں انتہائی دائیں بازو کی اس پیش قدمی نے روایتی جمہوریت پسند جماعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے نہ صرف ملکی سیاست پر بلکہ جرمنی کی مجموعی معاشی اور معاشرتی پالیسیوں پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔