AI
مصنوعی ذہانت سے انسانیت کا خاتمہ؟ انتروپک کے محقق کا بڑا دعویٰ
انتروپک کے ایک محقق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث تمام انسانوں کے خاتمے کا خطرہ دس فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ بیان مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات اور حفاظتی خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی تیز رفتار ترقی کے درمیان دنیا بھر کے ماہرین کی طرف سے اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حال ہی میں معروف مصنوعی ذہانت کی فرم 'انتروپک' (Anthropic) کے ایک محقق کی جانب سے انتہائی تشویشناک انتباہ سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تمام انسانوں کے خاتمے کا خطرہ دس فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ بیان اس بڑھتی ہوئی بحث کا حصہ ہے جو دنیا بھر میں اے آئی کے حفاظتی پہلوؤں اور اس کے طویل المدتی اثرات کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کام کرنے والے بہت سے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور اور خودمختار ہوتی جا رہی ہے، اس کے کنٹرول سے باہر ہونے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اے آئی نے طب، معیشت اور سائنس کے شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، لیکن دوسری طرف اس کے غیر متوقع نتائج اور اخلاقی مسائل نے سائنسی برجاری کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ موجودہ انتباہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر بروقت سخت حفاظتی اقدامات اور عالمی ضابطے مرتب نہ کیے گئے، تو یہ ٹیکنالوجی انسانی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے بڑے ممالک اور ادارے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ اخلاق پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس کے منفی اثرات کو روکا جا سکے اور انسانیت کو کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔