Business
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں
برطانیہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران پانچ پینس فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اپریل کے بعد سے سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران جنگ کے تناظر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے براہ راست اثرات اب عام صارفین پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے اندر پانچ پینس فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد انلیڈیڈ پیٹرول کی فی لیٹر اوسط قیمت بڑھ کر 167.17 پینس تک پہنچ گئی ہے جو کہ گزشتہ اپریل کے بعد سے کسی بھی ایک ہفتے میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے پیچھے بنیادی محرک مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران کے گرد منڈلاات تنازعات ہیں، جن کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے ہی ایران جنگ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا، بین الاقوامی منڈی میں تیل کے سودے مہنگے داموں ہونے لگے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور سپلائی کے راستوں میں ممکنہ تعطل کے پیش نظر کاروباری حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، جس نے براہ راست ریفائنڈ پروڈکٹس بالخصوص موٹر فیول کی لاگت کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ حکومتی اور تجارتی اعداد و شمار سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی یہ قیمتیں نہ صرف عام شہریوں کے روزمرہ کے سفری اخراجات کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ اس سے دیگر اشیائے خور و نوش اور سامان کی نقل و حمل کی لاگت میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جو بالآخر مہنگائی کی لہر کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
امورِ توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ میں کمی نہ آئی اور تیل کی سپلائی لائنز مکمل طور پر بحال نہ ہوئیں تو آنے والے ہفتوں میں صارفین کو مزید مالی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر بھی دباغ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں تاکہ عوام کو مہنگائی کے اس طوفان سے کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس دوران ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد اور روزانہ سفر کرنے والے عام شہریوں نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اس اچانک اور بڑے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔