World
برطانوی پابندیوں کا جواب: اسرائیل نے چار سخت اقدامات اٹھا لیے
اسرائیل نے برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے جواب میں جوابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان جوابی اقدامات میں مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنا بھی شامل ہے۔
برطانیہ اور چند دیگر ممالک کی جانب سے حالیہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد اسرائیل نے انتہائی سخت اور فوری جوابی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے بین الاقوامی دباؤ اور پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے چار اہم اور سخت جوابی اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اعلان کردہ ان جوابی اقدامات میں سب سے نمایاں قدم مقبوضہ بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانے کی بندش ہے۔ اس فیصلے کے تحت سفارتی سطح پر تعلقات کو محدود کرنے اور پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کے خلاف سخت گیر موقف اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عالمی سطح پر یہ واضح پیغام دیا جا सके کہ اسرائیل کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ یا پابندیوں کو قبول نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس قدم سے مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات میں تناؤ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ برطانیہ اور دیگر اتحادی ممالک نے انسانی حقوق اور دیگر امور پر اسرائیل کے خلاف کچھ سفارتی اور معاشی پابندیوں کا راستہ اختیار کیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیلی قیادت نے یہ جوابی حکمت عملی طے کی ہے۔
مستقبل میں اس کشیدگی کے خطے کی سیاست اور سفارت کاری پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں لگایا جائے گا۔ فی الحال دونوں جانب سے عزم ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھائیں گے، جس سے سفارتی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔