World
روس اور یوکرین امن مذاکرات: کریملن کی طرف سے اہم بیان جاری
روس نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ تعطل کا شکار امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔ کریملن نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں یورپی ملکوں کی شرکت پر اعتراض رکھتا ہے۔
ماسکو: روس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ کریملن کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف امریکی ایلچیوں نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کییف کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے یوکرین کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئی کوششیں کی جا سکیں۔ اس تمام صورتحال میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ جنگ کے آثار سے یہی لگتا ہے کہ یہ طویل ہو کر اب آنے والے سردیوں کے موسم تک جاری رہے گی۔ فریقین کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی کشمکش بدستور جاری ہے اور آنے والے دنوں میں امن کی کوششوں کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید سفارتی دورے متوقع ہیں۔ دریں اثنا کریملن نے واضح طور پر اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے حل کے لیے ہونے والی مذاکرات میں یورپی ممالک کے گروپ ای تھری کی شمولیت پر تحفظات اور اعتراضات رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کے فارمیٹ اور ثالثی کے طریقہ کار پر ابھی بھی بعض اہم امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔