LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد میں شیشہ کیفجز پر پابندی اور عدالت کا حکم

News Image
اسلام آباد انتظامیہ نے جڑواں شہروں کے دارالحکومت میں تمام شیشہ کیفجز پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر شیشہ کیفجز کے لیے جامع ضابطہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں تمام شیشہ کیفجز پر فوری طور پر 'مکمل پابندی' عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو واضح ہدایت کی کہ وہ شیشہ کیفجز کو چلانے کے لیے اگلے ایک ماہ کے اندر اندر سخت قواعد و ضوابط اور ریگولیشنز تیار کریں۔ اس فیصلے کے بعد دارالحکومت کے تمام علاقوں میں غیر قانونی شیشہ ہاؤسز کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور کئی مقامات پر کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں مارگلہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف شیشہ کیفجز پر چھاپے مارے اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کے احکامات اور ضلعی انتظامیہ کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دارالحکومت میں یہ پابندی ان تمام کیفجز پر لاگو ہوگی جن کے پاس پہلے سے اجازت نامے یا پرمٹس موجود تھے، کیونکہ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی اور قواعد و ضوابط کے نفاذ تک تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ شہری حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ نوجوان نسل میں شیشے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا جا رہا تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق شیشے کا استعمال سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور یہ پھیپھڑوں سمیت کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ والدین اور شہریوں نے انتظامیہ اور عدلیہ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نوجوانوں کو اس بری عادت سے بچانے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب شیشہ کیفے کے مالکان اور اس کاروبار سے وابستہ افراد نے اس اچانک پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم عدالتِ عالیہ کے ایک ماہ میں ضابطہ کار بنانے کے حکم کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ان کاروباروں کے لیے ایک قانونی دائرہ کار وضع کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے قواعد مکمل ہونے کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مخصوص شرائط کے تحت شیشہ کیفجز کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔