LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی پابندیاں اور دو ریاستی حل کا مستقبل

News Image
برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے مستقبل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس اقدام پر اسرائیل کی شدید ردعمل کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے خیرمقدم بھی کیا گیا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی سفارت کاری میں ہلچل مچ گئی ہے اور تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا طویل عرصے سے زیر بحث دو ریاستی حل اب دم توڑ چکا ہے؟ اس پیش رفت کے بعد برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملیبینڈ نے چیف ربی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں برطانیہ میں رہنے والے یہودی افراد کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ قوانین کا نفاذ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سب کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان نے برطانیہ کی قیادت میں لگائی جانے والی ان پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے اور دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے خطے میں دیرپا امن کے لیے منصفانہ اور پائیدار حل پر زور دیا ہے جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ اسرائیلی حکومت نے برطانوی فیصلے پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور برطانیہ کو اپنے قونصل خانے کو بند کرنے کے لیے ایک ڈیڈ لائن بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی آباد کاروں نے بھی ان پابندیوں کے خلاف سخت تنبیہ جاری کی ہے جس سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور زمینی حقائق کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔