World
نیپال میں سیلاب کے بعد سوگ: ہلاکتیں 1410 تک پہنچ گئیں
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے تیرہ دن بعد ملک بھر میں سرکاری سطح پر سوگ کا دن منایا جا رہا ہے۔ اس آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1410 ہو گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال میں شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کو تیرہ دن گزرنے کے بعد جمعرات کے روز ملک بھر میں سرکاری طور پر سوگ کا دن منایا گیا۔ اس المناک آفت نے پورے ملک کو سوگوار کر رکھا ہے جبکہ غمزدہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کے زندہ بچ جانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے اس سیلاب کے بعد اب تک تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1410 تک جا پہنچی ہے جبکہ پانچ ہزار چھ سو سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں کیونکہ دور دراز کے علاقوں میں رابطہ سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور مقامی رضا کاروں کا کہنا ہے کہ تباہی کا یہ عالم تاریخ میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے جہاں خیموں، صاف پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ریسکیو ورکرز ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں مگر وسائل کی کمی اور دشوار گزار راستے ان کے کام میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ نیپال کو اس آفت سے پہنچنے والے بنیادی ڈھانچے اور املاک کا نقصان پانچ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس اتنی بڑی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فنڈز کہاں سے آئیں گے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے امداد کی اپیل کی جا رہی ہے لیکن متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنا اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔