Technology
گوگل ارتھ کا نیا اے آئی ٹول غلط معلومات کے خدشات پر واپس
گوگل کی جانب سے متعارف کرایا گیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا ٹول غلط معلومات اور جعلی مناظر بنانے کے خدشات کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ گیا تھا۔ محققین اور ماہرین کی جانب سے الرٹ جاری کیے جانے کے بعد گوگل نے اس ٹول کو فوری طور پر ہٹا لیا ہے۔
امریکہ کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے حال ہی میں اپنے مشہور پلیٹ فارم گوگل ارتھ میں ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے صارفین کو کسی بھی مقام کی تصاویر کو تبدیل کرنے کی سہولت مل رہی تھی۔ اس ٹول کے ذریعے صارفین نے مبینہ طور پر بم دھماکوں، ہنگاموں اور تباہی کے جعلی مناظر تخلیق کرنا شروع کر دیے، جس سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اور تحقیقی اداروں نے اس نئی خصوصیت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ ٹول گمراہ کن خبریں اور جعلی تصاویر پھیلانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کے بعد دنیا بھر میں اس پر بحث شروع ہو گئی کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال معاشرے میں افراتفری پیدا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی سمیت کئی معروف خبر رساں اداروں نے بھی اس ٹول کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی تھی۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اور محققین کی جانب سے مسلسل انتباہ ملنے کے بعد، گوگل نے فوری اقدام کرتے ہوئے اس نئے ارتھ اے آئی ٹول کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو محفوظ اور ذمہ دارانہ ٹولز فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی ایسی خصوصیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی کے امور کا جائزہ لیا جائے گا جو معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
اس واقعے نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال اور اس کی تیکنیکی حدود کے حوالے سے بحث کو چھیڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو کوئی بھی نیا فیچر لانچ کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ منفی اثرات اور غلط استعمال کے بارے میں گہرائی سے سوچنا چاہیے تاکہ فیک نیوز اور غلط پروپیگنڈا کی روک تھام کی جا سکے۔