World
مسانٹا میں سیاہ فام خاتون کی ہلاکت، ماں کا انصاف کا مطالبہ
مسانٹا میں ایک درخت سے سیاہ فام خاتون تاشیا فارچیون کی لاش ملنے کے کئی ہفتے گزر جانے کے بعد ان کی والدہ نے پولیس سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پر اسرار واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
امریکہ کی ریاست مسانٹا میں ایک انتہائی دلخراش اور پراسرار واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سیاہ فام خاتون تاشیا فارچیون کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی برآمد ہوئی۔ اس واقعے کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں لیکن تاشیا فارچیون کی والدہ کو تاحال اپنی بیٹی کی موت کے حوالے سے کوئی تسلی بخش معلومات یا انصاف فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
اس دردناک واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید صدمہ اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پرسرار واقعات اور فوری طور پر واضح حقائق کا سامنے نہ آنا معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں نے تاشیا فارچیون کی والدہ کے مطالبات کی بھرپور تائید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ سوگوار خاندان کو انصاف مل سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے وقت حالات اتنے مشکوک تھے کہ مقامی افراد نے اس پر فوراً گہرے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی طرف سے بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کو تمام ممکنہ پہلوؤں بالخصوص نسلی تعصب کے زاویے سے بھی تفتیش کرنی چاہیے۔ تاشیا فارچیون کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے آخری دم تک انصاف کی جنگ لڑیں گی اور خاموش نہیں بیٹھیں گی جب تک کہ ذمہ داران بے نقاب نہیں ہو جاتے۔
حکام کی جانب سے تاحال اس کیس کے حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم دباؤ بڑھنے کے بعد تفتیشی عمل میں تیزی لائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ خاندان اور مقامی عوام کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ انتظامیہ شفافیت کا مظاہرہ کرے اور اس المناک واقعے کے اصل اسباب کو عوام کے سامنے لائے۔