World
بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا سے ایک ہزار سے زائد بچوں کی اموات
بنگلہ دیش میں خسرہ کی بدترین وبا کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ مارچ سے اب تک انفیکشن کے تقریبا ایک لاکھ نوے ہزار کیسز سامنے آئے ہیں۔ ویکسینیشن مہم کا ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس پر طبی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرہ کی تاریخ کی بدترین وبا نے شدید تباہی مچا دی ہے جہاں اس جان لیوا بیماری کے باعث ایک ہزار سے زائد معصوم بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ عالمی اور مقامی طبی اداروں کے مطابق مارچ سے شروع ہونے والی اس مہلک وبا کے دوران اب تک تقریبا ایک لاکھ نوے ہزار افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت کمسن بچوں کی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ملک کے لیے ایک بڑا طبی بحران بن چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کی بنیادی وجہ ملک میں خسرہ سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کا خاطر خواہ کامیاب نہ ہونا بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومتی سطح پر چلائی جانے والی ٹیکہ کاری مہم اپنے مقررہ ہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں لاکھوں بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے۔ طبی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بروقت ویکسینیشن نہ ہونے کی وجہ سے وائرس کو کمزور اور غیر محفوظ آبادی میں تیزی سے پھیلنے کا موقع ملا، بالخصوص دیہی علاقوں اور پسماندہ بستیوں میں حالات زیادہ ابترہوئے۔
بنگلہ دیشی محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خصوصی میڈیکل کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں جہاں بچوں کو فوری طور پر خسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں اور متاثرہ بچوں کو مفت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ عوام میں اس بیماری سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی بھی تاخیر کے بغیر خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے ضرور لگوائیں تاکہ اس خطرناک وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی بنگلہ دیش کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے طبی آلات، ادویات اور ویکسین کی فراہمی میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبا پر مکمل قابو پانے کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔