LIVE
Loading Breaking News...

اردن کا الازرق ایئربیس اور ایران کے حملوں کی وجوہات

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اردن کے اثاثے بھی تہران کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ الازرق بیس کی خطے میں اہمیت اور اس کشیدگی کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے ایک اہم ملک اردن کے عسکری اثاثے بھی اب تہران کے براہِ راست نشانے پر آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین سکیورٹی رپورٹس اور تجزیات کے مطابق، خطے میں جاری محاذ آرائی نے اب اردن جیسی ریاستوں کو بھی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے جو ماضی میں براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اس پوری صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اردن کا الازرق ایئربیس کیا ہے اور ایران اسے کیوں نشانہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اردن کا الازرق بیس ملک کے اہم ترین فوجی تنصیبات میں شمار ہوتا ہے، جو کہ تزویراتی لحاظ سے ایک انتہائی حساس مقام پر واقع ہے۔ اس بیس کو خطے میں بین الاقوامی اور اتحادی افواج کے تعاون کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ عسکری حلقوں میں ہمیشہ سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موجودگی کی وجہ سے اس قسم کے عسکری اڈے اکثر و بیشتر مخالف فریقین کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران تہران کی طرف سے اردنی اثاثوں کو ہدف بنانا اس بات کا غماز ہے کہ اس تنازع کا دائرہ کار اب وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ خطے میں موجود غیر ملکی فوجی اڈے اور ان سے جڑے امور اس وقت ایران اور اس کے اتحادیوں کی نظروں میں ہیں، جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر ممکنہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اردن کی سلامتی اور اس کا دفاعی کردار خطے کی آنے والی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ سفارتی اور عسکری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس کشیدگی کو جلد قابو میں نہ لایا گیا تو اردن جیسے ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس قسم کے اہم عسکری اور سٹریٹجک مقامات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور جنگ کے سائے سے خطے کو نکالا جا سکے.