World
نائجیریا میں بوکو حرام کے ساتھ جنگ بندی کا خفیہ معاہدہ، 360 افراد بازیاب
شمال مشرقی نائجیریا میں بوکو حرام کے شدت پسندوں اور حکومتی حکام کے درمیان تین ماہ کی خفیہ جنگ بندی کے معاہدے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ پیشرفت 360 مغوی دیہاتیوں کی رہائی کے بعد عمل میں آئی ہے جنہیں تنظیم نے کچھ عرصہ قبل اغوا کیا تھا۔
شمال مشرقی نائجیریا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم بوکو حرام اور حکومتی نمائندوں کے درمیان تین ماہ کی خفیہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ پیشرفت نائجیریا کے شورش زدہ علاقوں میں امن کے قیام کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس معاہدے کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم اس پیشرفت نے خطے میں بسنے والے لاکھوں لوگوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔
اس جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق اس وقت ہوئی جب بوکو حرام کے قبضے سے 360 مغوی دیہاتیوں کو رہا کیا گیا۔ ان شہریوں کو شدت پسندوں نے کچھ عرصہ قبل نائجیریا کے ایک دور افتادہ علاقے میں ہونے والے حملے کے دوران اغوا کر لیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان افراد کی بازیابی اسی خفیہ بات چیت کا حصہ تھی جو دونوں فریقین کے درمیان جاری تھی۔ رہائی پانے والے افراد کی واپسی کے بعد مقامی کمیونٹیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کے خاندانوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس عمل کو دیرپا امن میں تبدیل کریں۔
بوکو حرام کی جانب سے اس طرح کی جنگ بندی ماضی میں بھی دیکھی گئی ہے لیکن اس بار کی صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی ایک بڑی تعداد میں مغویوں کو رہائی ملی ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے کئی بین الاقوامی اور مقامی دباؤ کارفرما ہو سکتے ہیں۔ نائجیرین فوج طویل عرصے سے ان علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، تاہم ان کوششوں کے باوجود خطے میں امن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے ماہرین محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کے تین ماہ کا عرصہ اگرچہ مختصر ہے لیکن یہ وقت فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نائجیریا میں طویل عرصے سے جاری خونریزی کا خاتمہ ہو سکے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے تاکہ شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے یا انہیں مزید تشدد سے روکا جا سکے۔