LIVE
Loading Breaking News...

آبنائي ہرمز میں فوجی تعیناتی: سیول میں جنگ مخالف احتجاج

News Image
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں درجنوں جنگ مخالف کارکنوں نے آبنائي ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بدھ کے روز ایک پُراسرار اور اہم احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں آیا جہاں تقریباً ایک سو جنگ مخالف کارکنان نے سیول سینٹر کے باہر جمع ہو کر اپنے شدید جذبات کا اظہار کیا۔ اس احتجاج کا بنیادی محور آبنائي ہرمز میں کسی بھی ممکنہ فوجی تعیناتی کی مخالفت کرنا تھا، جسے مظاہرین نے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور خطے کے ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی تنازعات میں براہ راست یا بلاواسطہ فوجی مداخلت سے گریز کرے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائي ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ منتظمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے احتجاجی مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں جب تک کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر واضح اورامن پسند پالیسی سامنے نہیں آ جاتی۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خلیجی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور جنگی جنون کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ سیول پولیس کی بھاری نفری احتجاجی مقام پر موجود رہی تاہم مظاہرہ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ اس احتجاج کو بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے بھی کوریج ملی ہے کیونکہ آبنائي ہرمز کی سیکیورٹی دنیا بھر کے لیے انتہائی حسّاس نوعیت کا حامل موضوع ہے۔