LIVE
Loading Breaking News...

سنگاپور میں فلسطینی پرچم لہرانے پر میسیوی اٹیک پر پابندی

News Image
برطانوی میوزیکل گروپ میسیوی اٹیک کو سنگاپور میں ایک کنسرٹ کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے پر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکام نے اس عمل کو غیر ملکی علامات کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بینڈ پر ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
برطانوی شہرت یافتہ میوزیکل گروپ 'میسیوی اٹیک' کو سنگاپور میں ایک لائیو کنسرٹ کے دوران فلسطینی پرچم لہرانے کی پاداش میں سخت قانونی کارروائی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاپور کے متعلقہ اداروں نے اس واقعے کو ملک کے ان سخت قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو کسی بھی عوامی اجتماع یا تقریب میں غیر ملکی علامات اور سیاسی پرچموں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بینڈ کے ارکان کو مستقبل میں سنگاپور میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر فنونِ لطیفہ اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ سنگاپور کی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی یا غیر ملکی سیاسی علامات کی نمائش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس سے بین الاقوامی تعلقات اور ملکی امن عامہ متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے حامیوں اور بینڈ کے مداحوں کی طرف سے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور اسے فنکاروں کے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ سنگاپور کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انفارمیشن میڈیا اتھارٹی (IMDA) کی جانب سے اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی اور تنازعات سے جڑے معاملات پر فنکاروں کا اظہارِ خیال کس حد تک ریاستی قوانین اور پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔