World
برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی، پاکستان کا خیرمقدم
پاکستان اور دیگر سات مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی پابندیوں کے برطانوی فیصلے کا زبردست خیرمقدم کیا ہے۔ وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کا محاسبہ کریں۔
پاکستان نے برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو روکنے میں مدد ملے گی اور یہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس مشاورتی رائے سے بھی ہم آہنگ ہیں جس میں غیر قانونی قبضے کو تسلیم نہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے یہ تجارتی پابندیاں کونسل کے فیصلوں اور دو ریاستی حل کی حمایت کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں ہونے والی کارروائیوں کا نوٹس لے۔ اس کے ساتھ ہی بارہ دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک الگ بیان میں اسی طرح کے اقدامات پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دو ریاستی حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی بستیاں اور ان کی مسلسل توسیع مشرق وسطیٰ میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب، اس فیصلے کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور برطانوی نمائندوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کشیدگی کے باوجود برطانوی حکام نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون بدستور جاری رہے گا۔ اسلام آباد نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔