World
برطانیہ کی اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں، ممتاز اسرائیلی شخصیات کی حمایت
برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں اور وہاں کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کو متعدد نمایاں اسرائیلی شخصیات اور مسلم ممالک نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اس اقدام پر اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں اور وہاں سے آنے والی درآمدات پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے کو کئی ممتاز اسرائیلی شخصیات نے ایک اچھا آغاز قرار دیا ہے۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور پاکستان سمیت متعدد عرب اور مسلم ممالک نے بھی اس فیصلے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے، اسے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ نے چیف ربی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد برطانیہ میں مقیم یہودی برادری کو زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ ادھر یورپ کے گیارہ ممالک اور کینیا و کینیڈا نے بھی مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے خلاف اقدامات اٹھائے ہیں، جس سے اس عالمی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اس صورتحال کے تناظر میں اسرائیل اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے برطانیہ کو حتمی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ اپنے قونصل خانے سے متعلق امور پر نظرثانی کرے، جبکہ دوسری طرف انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں نے بھی ان پابندیوں کے ممکنہ منفی اثرات کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرنے کی وارننگ دی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ اقدام خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔