LIVE
Loading Breaking News...

مودی حکومت سہارنپور میں 115 سال پرانی مسجد گرانے پر تنقید کی زد میں

News Image
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں 115 سال پرانی تاریخی مسجد کو مسمار کیے جانے پر سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے اس اقدام کو اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔
بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی مقامات کی حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ریاست اتر پردیش کے اہم شہر سہارنپور میں 115 سال پرانی ایک تاریخی مسجد کو مسمار کیے جانے کے واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس اقدام پر نہ صرف اپوزیشن سیاسی رہنماؤں بلکہ ملک اور دنیا بھر کے نامور سماجی کارکنوں کی طرف سے بھی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے ورثے کو مٹانے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ مسجد کی مسماری کے اس واقعے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر پہلے سے موجود دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مبصرین نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے والا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی مقامات اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے سے معاشرے میں عدم برداشت اور تفریق میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ سیکولر اقدار کے منافی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ مقامی افراد اور مسلم کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی اس کارروائی پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنی پرانی عمارت کو بغیر کسی مناسب نوٹس یا قانونی جواز کے گرانا نہ صرف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے بلکہ تاریخی ورثے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ہے۔ واقعے کے بعد سے علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔