World
امریکہ میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی زندگی: روزینہ علی کے خیالات
مصنفہ روزینہ علی نے نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کو درپیش غیر معروف اور گہرے چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس دور میں مسلمانوں نے مسلسل نگرانی اور خوف کے احساس کے ساتھ زندگی گزاری۔
امریکہ میں نائن الیون کے واقعات کو پچیس سال بیت چکے ہیں، لیکن اس طویل عرصے کے دوران امریکی مسلمانوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات آج بھی گہرے ہیں۔ معروف مصنفہ اور محقق روزینہ علی نے حال ہی میں اس تلخ حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح اس سانحے کے بعد امریکہ میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں کو ایک مشکوک نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کمیونٹی نے مسلسل یہ محسوس کیا کہ کوئی ان کی نگرانی کر رہا ہے، جس نے ان کی سماجی زندگی اور ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کیا۔ مختلف تحقیقی اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس عرصے میں امریکی مسلمانوں نے شناخت کے بحران، تعصب اور غیر اعلانیہ امتیاز کا سامنا کیا۔ حالیہ جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچیس سال گزر جانے کے باوجود بہت سے امریکی مسلمان خود کو سماجی دھارے میں اجنبی اور زیرِ عتاب محسوس کرتے ہیں۔ ان رپورٹس میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ کس طرح ریاستی اور سماجی سطح پر نافذ کردہ پالیسیوں نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنایا اور ان کے بنیادی حقوق کو محدود کیا۔ روزینہ علی اور دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تلخ تاریخ کو سمجھنا اور اس پر کھل کر بات کرنا معاشرے میں باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ امریکہ میں مقیم مسلم کمیونٹی آج بھی اپنے حقوق، شناخت اور سلامتی کے لیے کوشاں ہے، اور ان کی یہ جدوجہد اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکی معاشرہ تنوع اور مساوات کو حقیقی معنوں میں اپنائے۔