LIVE
Loading Breaking News...

سمارٹ فونز کی لت اور انسانی نفسیات پر اس کے اثرات

News Image
جدید دور کے سمارٹ فونز نے ہماری توجہ اور بوریت ختم کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بے جا استعمال ہماری روزمرہ زندگی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
آج کے دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا ایک ایسا لازمی حصہ بن چکا ہے جس کے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی محال محسوس ہوتا ہے۔ صبح بستر سے اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک ہمارا زیادہ تر وقت ڈیجیٹل سکرینز کے سامنے گزرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم نے خود ہی اپنے لیے ایک ایسا ڈیجیٹل جال تیار کر لیا ہے جس سے نکلنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہر وقت ہاتھ میں موجود یہ چھوٹی سی ڈیوائس ہماری توجہ کو مسلسل منتشر کرتی رہتی ہے اور ہم گہرے انہماک یا تخلیقی سوچ کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بوریت کو ذہنی سکون اور نئے خیالات کی آمد کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، لیکن سمارٹ فونز نے بوریت کا یہ احساس ہی ختم کر دیا ہے۔ جب بھی انسان کو چند لمحے فارغ ملتے ہیں، وہ فوراً اپنا فون اٹھا کر سوشل میڈیا فیڈز سکرول کرنے لگتا ہے۔ اس مسلسل عمل سے دماغ کو آرام کا موقع نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات جیسی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایپس کے ڈیزائن میں ایسے نفسیاتی حربے استعمال کیے جاتے ہیں جو انسان کو بار بار فون دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں اور یہ ایک نشے کی مانند بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ہماری ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ سماجی تعلقات اور جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مسلسل سکرین کی طرف دیکھنے کی وجہ سے جسمانی حرکات میں کمی آئی ہے اور گردن، کمر اور آنکھوں کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے وقت پر اس ڈیجیٹل انحصار کو اعتدال پر نہ لایا تو اس کے نتائج آنے والے وقتوں میں مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیجیٹل ڈی ٹاک کو اپنایا جائے، سکرین ٹائم کو محدود کیا جائے اور اپنی حقیقی زندگی کے رشتوں اور سرگرمیوں کو دوبارہ اہمیت دی جائے۔